ارشادات
جلسہ سالانہ کے بارہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالہ بنصرہ العزیز کی ہدایات
(حضور کے ارشادات کی روشتنی میں)
جلسہ کی غرض و غایت
یہ جماعتی جلسہ ھے کوی میلہ نہیں ھے اور نہ اس میں میلہ سمجھ کر شمولیت ھونی چاہیے اور نہ صرف میل ملاقات اور خرید و فروخت یا فیشن کا اظہار ھونا چاہیے۔
ایک دوسرے سے ملو تو مسکراتے ھوے ملو۔ اگر کوی رنجشیں تھیں تو ان تین دنوں میں اپنی مسکراہٹوں سے انہیں ختم کر دو۔ دوسری بات یہ کہ نیکیوں کو پھیلاو نیکیوں کی تلقین کرو اور بری باتوں سے روکو۔۔ تو یہ جلسہ کی غرض و غایت بھی ھے۔ اس لیے جو جلسہ پر آے ھیں وہ ادھر ادھر پھرنے کی بجاے جلسہ کے پروگراموں سے بھر پور فایدہ اٹھایں ، اس میں بھر پور حصہ لیں۔
اس بات کا خاص اہتمام ھونا چاہیے کہ خواتین بھی ، بچے بھی خاموشی سے بیٹھ کر جلسہ سنیں اور اس سے بھر پور فایدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔
جلسہ کی برکات
انگلستان کے احمدیوں کو چاہے کہ ذوق و شوق کے ساتھ اس جلسہ میں شریک ھوں۔ یہ آپ کا جلسہ سالانہ ھے۔ بغیر کسی عزر کے کوی گیر حاضر نہ رھے۔ بعض لوگ تین دن کی بجاے صرف دو دن یا ایک دن کے لیے آجاتے ھیں اور ان کے آنے کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ جلسہ کی برکات کے حصول کی بجاے میل ملاقات ھو۔ حالانکہ جلسہ کی برکات کو اگر مدنظر رکھا جاے تو تین دن حاضر رہنا ضروری ھے۔ جس حد تک ممکن ھو جلسہ کی تقاریر اور باقی پروگرام پوری توجہ اور خاموشی سے سنین اور وقت کی قدر کرتے ھوے کسی بھی صورت اسے ضایع نہ کریں۔
میزبانوں کو نصایح
ایک ہدایت ان لوگوں کے لیے ھے جو بعض دفعہ عمومان تو یہ نہیں ھوتا لیکن بعض دفعہ بعض مقامی لوگ مہمانوں کو لفٹ دیتے ھیں اور پیسوں کا مطالبہ کرتے ھیں۔ مہمان نوازی کے پیش نظر اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
مہمان بھی اگر کہیں کوتاہی دیکھیں تو نرمی سے توجہ دلا دیں۔ کسی قسم کا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ھے۔ اتنے وسیع انتظامات ھوتے ھیں۔ تھوڑی بہت کمیاں رہ جاتی ھیں۔ وہ برداشت کرنی چاہیں اور صرف نظر کرنا چاہیے۔ اور غصہ کو دبانے کا بھی ایک ثواب ھے۔
کارکنان کو ہدایت
اپنے ساتھی کارکنوں سے بھی عذر اور احترام سے پیش آیں آپس میں محبت سے سارے کام اور ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔
جو میزبان ھیں ان کا یہ فرض ھے کہ مہمان کی مہمان نوازی اسی طرح خوش خلقی سے کرتے رہیں۔ جب تک انتظام کے تحت اس مہمان نوازی کا انتظام ھے۔ یہ نہیں کہ ادھر جلسہ ختم ھوا اور ادھر ڈیوٹی والے کارکن غایب پتہ نہیں کہاں گیے۔ اور انتظامیہ پریشان ھو رہی ھو۔ تو جو بھی ڈیوٹی دیں پوری محنت اور دیانتداری سے دیں۔
اسی طرح کارکنان بھی اگر مہمان کا غصہ دیکھیں تو انتہای نرمی سے معزرت کر کے تکلیف دور کرنے کی کوشش کریں لیکن یاد رکھیں کہ مہمان سے سختی سے بات نہیں کرنی۔
مسجد کے آداب
مسجد مین اور مسجد کے ماحول میں اس کے آداب اور تقدس کا خیال رکھیں۔ جلسہ سالانہ کے دنوں میں جو مارکی جلسہ کے لیے لگای جاتی ھے اسی میں نمازیں ھوں گی۔ اس لیے اس وقت کے لیے اس کو آپ کو مسجد کا ھی درجہ دینا ھو گا اور مکمل طور پر وہاں اس تقدس کا خیال رکھنا ھو گا۔
آداب نماز
جلسہ کے ایام بالخصوص ذکر الہی کرتے اور درود پڑھتے ھوے گزاریں اور التزام کے ساتھ نمازوں کی پابندی کریں اب اتنی دور سے مہمان تشریف لاے ھیں تو اگر نمازیں بھی نہ پڑھیں اور ان کی پابندی نہ کی تو پھر فایدہ کوی نہیں ھو گا۔ اسی طرح انتظامیہ کے لیے لنگر خانہ میں یا ایسی ڈیوٹیاں جہاں سے ہلنا ان کے لیے مشکل ھے وہاں نماز کی ادایگی کا انتظام ھونا چاہیے۔ ان کے افسر ان کی یہ ذمہ داری ھے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں۔
نماز کے دوران بعض اوقات بچے رونے لگ جاتے ھیں جس سے بعض لوگوں کی نماز میں بہرحال توجہ بٹتی ھے، خراب ھوتی ھے۔ جو نماز کا تعلق تھا وہ جاتا رہتا ھے۔ تو اس صورت میں والدین کو چاہیے اگر والد کے پاس بچہ ھے یا والدہ کے پاس بچہ ھے تو وہ اس کو باہر لے جایں۔
اگر چھوٹی عمر کے بچے ھیں تو مایں یا اگر باپوں پاس ھیں تو باپ پہلی صفوں میں بیٹھنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ پیچھے جا کر بیٹھیں تا کہ اگر ضرورت پڑے تو نکلنا بھی آسان ھو۔
موبایل فون
نمازوں کے دوران اپنے موبایل فون بھی بند رکھیں۔ بعضوں کو عادت ھوتی ھے کہ فون لے کر نمازوں پر آ جاتے ھیں اور پھر جب گھنٹیاں بجنا شروع ھوتی ھیں تو نماز سے بالکل توجہ بٹ جاتی ھے۔
آداب گفتگو
فضول گفتگو سے اجتناب کریں۔ باہمی گفتگو میں دھیما پن اور وقار قایم رکھیں۔ تلخ گفتگو سے اجتناب کریں۔
بعض لوگ بلند آواز سے عادتان تو تو میں میں کرکے باتیں کر رھے ھوتے ھیں یا ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر قہقہے لگا رھے ھوتے ھیں۔ ان تین دنوں میں ان تمام چیزوں سے جس حد تک پرہیز کر سکتے ھیں کرین بلکہ مکمل طور پر پرہیز کرنے کی کوشش کریں۔ ویسے بھی یہ کوی ایسی اچھی عاد ت نہیں۔
نظم و ضبط
تنگ سڑکوں پر چلنے میں احتیاط اور شوروغل سے پرہیز کریں۔ باہر سے آنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ھے کہ اس ماحول میں یہ نہ سمجھیں کہ آبادی نہیں ھے۔ تھوڑی بہت آبادی تو ھوتی ھے تو بلا وجہ شوروغل نہیں ھونا چاہیے۔
نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے بھرپور تعاون کریں اور ان کی ہر طرح سے اطاعت کریں۔
صفای
جلسہ کے دنوں میں راستوں کی صفای کے علاوہ گراونڈ میں بھی اور جلسہ گاہ میں بھی بچے اور بڑے گند کر دیتے ھیں تو قطع نظر اس کے کہ کس کی ڈیوٹی ھے جو بھی گند دیکھے اس کو اٹھا کر جہاں بھی کوڑا پھینکنے کے لیے ڈسٹ بن یا ڈبے وغیرہ رکھے گیے ھیں ان میں پھینکیں۔ مہمان بھی میزبان بھی دونوں ان چیزوں کا خیال رکھیں۔
صفای کے آداب ھیں۔ ٹیلٹ میں صفای کو ملحوظ رکھیں۔ یاد رکھیں کہ صفای بھی ایمان کا حصہ ھے۔
اس ماحول میں ظاہری صفای کابہت خیال رکھا جاتا ھے۔ بلاوجہ انتظامیہ کو بھی اعتراض کا موقع نہ دیں اور اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیں کہ صفای کو ہر صورت میں آپ نے قایم رکھنا ھے۔
خواتین کو نصایح
خواتین کے لیے ہدایت ھے کہ خواتین گھومنے پھرنے میں احتیاط اور پردہ کی رعایت رکھیں۔ تاہم جو خواتین احمدی مسلمان نہیں اور پردے کی ایسی پابندی نہیں کرتیں ان سے صرف پردے کی درخواست کرنا ھی کافی ھے۔ ہر گز کوی زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہونی چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے کسی احمدی کو بھی نقاب کی دقت ھو تو پھر ایسی خواتین میک اپ میں نہیں ھونی چاہیں۔ سادہ رہیں کیونکہ میک اب کرنا بہرحال مناسب نہیں۔ سر ڈھاپنے کی عادت کو اچھی طرح سے رواج دیں۔ ایک ایسا ماحول پیدا ہو۔ خواتین کی طرف سے نظر آنا چاہیے کہ روحانی ماحول میں ہم یہ دن بسر کر رھے ھیں۔ پردہ نہ کرنے کے بہانے نہیں تلاش ہونے چاہیں۔ اگر کوی مجبوری ھے تو بہرحال جس حد تک حجاب ھے اس کو قایم رکھنا چاہیے اور یہ حکم بھی ھے۔
بعض دفعہ خواتین میں یہ دیکھا گیا ھے کہ عورتیں اکٹھی ھویں، باتیں کیں اور بس ختم اور یہ پتہ ہی نہیں ھوتا کہ کیا تقریریں ھویں اور کیا کہا گیا، کس قسم کے تربیتی پروگرام تھے۔
کھانے کے آداب
ان دنوں میں بعض دفعہ کھانے کا بہت ضیاع ھوتا ھے ۔ کہ کھانے کے آداب مین تو یہ ھے کہ جتنا پلیٹ میں ڈالیں اس کو مکمل ختم کریں۔ کوی ضیاع نہیں ھونا چاہیے۔ بلا وجہ حرص میں آ کر زیادہ ڈال لیا یا دیکھا دیکھی ڈال لیا۔ اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں کہ اس قسم کی کوی حرکت نہیں ھونی چاہیے جس کا دوسروں پر برا اثر پڑ رہا ھو۔ اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ھے کہ کھانا جو ضایع ھو رہا ھوتا ھے اکثر کارکنان کا یہ قصور نہیں ھوتا بلکہ لینے والے کا قصور ھوتا ھے۔
اتنا ہی لیں جتنا آپ ختم کر سکیں لیکن کارکنان کے لیے بہرحال یہ ہدایت ھے کہ اگر کوی مطالبہ کرتا ھے کہ مزید دو اور زیادہ لے لیتا ھے تو اسے نرمی سے سمجھایں۔ سختی سے کسی مہمان کو بھی انکار نہیں کرنا اور نہ یہ کسی کارکن کا حق ھے۔ پیار سے کہہ سکتے ھیں کہ ختم ھو جاے تو دوبارہ آ کر لے لیں۔
کھانا جہاں آپ کھا رھے ھوں ان جگہوں پر بعض لوگ کھانا کھا کر خالی برتنوں کو وہیں رکھ جاتے ھیں اور ڈسٹ بن میں نہیں ڈالتے ۔ اور یہ معمولی سی بات ھے۔ ایک تو کارکنان کا کام بڑھ جاتا ھے۔ اس عرصہ میں وہ کوی اور کام کر سکتے ھیں۔ دوسرے گندگی پھیلتی ھے۔
بازار کے متعلق ہدایات
ایک ضروری ہدایت یہ ھے کہ بازار جلسہ کے دوران بند رہیں گے۔ مہمان بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ بلا وجہ جن لوگوں نے دکانیں بنای ہوی ھیں یا سٹال لگاے ھیں ان کو مجبور نہ کریں کہ اس دوران دکانیں کھولیں یا آپ وہاں بیٹھے رہیں۔
ٹریفک
گاڑیاں پارک کرتے وقت خیال رکھیں کہ وہ لوگوں کے گھروں کے سامنے یا ممنوعہ جگہوں پر پارک نہ ھوں۔
ٹریفک کے قواعد کو ملحوظ رکھیں اور جلسہ گاہ میں شعبہ پارکنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں۔
اگر تھکے ھوے ھیں یا بے آرامی ھے کسی بھی صورت میں آرام کیے بغیر سفر شروع نہ کریں۔
حفاظت
حفاظتی نقطہ نگاہ سے نگرانی کرنا ایک بہت اہم چیز ھے۔ اپنے ماحول پر گہری نظر رکھنا ہر ایک کا فرض ھے کہ اگر اجنبی آدمی ھو تو متعلقہ شعبہ کو اس کی اطلاع کر دیں۔ خود کسی سے بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔
اس کا سب سے بہترین طریقہ یہی ھے کہ ہر آدمی زیادہ دور تک نظر تو نہیں رکھ سکتا ۔ مگر اپنے دایں بایں اپنےساتھیوں پر بہر حال نظر رکھیں جن کو آپ جانتے نہ ھوں۔ تو یہی بہت بڑی سیکیورٹی ھے جماعت احمدیہ کی۔
جلسہ گاہ کی حدود میں داخلہ سے قبل متعلقہ حفاظتی عملہ کے سمنے خود ہی چیکنگ کے لیے پیش ھو جایا کریں۔
ہر وقت شناختی کارڈ لگا کر رکھیں۔ اور اگر کوی اس کے بغیر نظر آے تو اس کو بھی نرمی سے توجہ دلا دیں۔
قیمتی اشیاء اور نقدی وغیرہ کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں اور یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ھے انتظامیہ ہر گز اس کی ذمہ داری نہیں لے گی۔
ویزا کے بارے ہدایات
یہاں قیام کے دوران دوسرے ملکی قوانین کی بھی پوری پاسداری کریں۔ پوری پاندی کریں اور بلخصوص ویزا کی میعاد ختم ھونے سے پہلے پہلے ضرور واپس تشریف لے جایں اور جو دوست جلسہ سالانہ کی نیت سے ویزا لے کر یہاں آے ھیں انہیں بہرحال اس کی بہت سختی سے پابندی کرنی ھو گی۔
دعا
سب سے اہم دعا ھے۔ دعاوں پر زور دیں۔ جلسہ پر آتے بھی اور جاتے بھی۔ دعاوں سے سفر شروع کریں اور سفر کے دوران بھی دعایں کرتے رہیں۔
(بحوالہ خطبہ جمعہ، فرمودہ ۱۸ جولای ۲۰۰۳ء، الفضل انٹر نیشنل ۱۲ ستمبر ۲۰۰۳ء)
(حضور کے ارشادات کی روشتنی میں)
جلسہ کی غرض و غایت
یہ جماعتی جلسہ ھے کوی میلہ نہیں ھے اور نہ اس میں میلہ سمجھ کر شمولیت ھونی چاہیے اور نہ صرف میل ملاقات اور خرید و فروخت یا فیشن کا اظہار ھونا چاہیے۔
ایک دوسرے سے ملو تو مسکراتے ھوے ملو۔ اگر کوی رنجشیں تھیں تو ان تین دنوں میں اپنی مسکراہٹوں سے انہیں ختم کر دو۔ دوسری بات یہ کہ نیکیوں کو پھیلاو نیکیوں کی تلقین کرو اور بری باتوں سے روکو۔۔ تو یہ جلسہ کی غرض و غایت بھی ھے۔ اس لیے جو جلسہ پر آے ھیں وہ ادھر ادھر پھرنے کی بجاے جلسہ کے پروگراموں سے بھر پور فایدہ اٹھایں ، اس میں بھر پور حصہ لیں۔
اس بات کا خاص اہتمام ھونا چاہیے کہ خواتین بھی ، بچے بھی خاموشی سے بیٹھ کر جلسہ سنیں اور اس سے بھر پور فایدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔
جلسہ کی برکات
انگلستان کے احمدیوں کو چاہے کہ ذوق و شوق کے ساتھ اس جلسہ میں شریک ھوں۔ یہ آپ کا جلسہ سالانہ ھے۔ بغیر کسی عزر کے کوی گیر حاضر نہ رھے۔ بعض لوگ تین دن کی بجاے صرف دو دن یا ایک دن کے لیے آجاتے ھیں اور ان کے آنے کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ جلسہ کی برکات کے حصول کی بجاے میل ملاقات ھو۔ حالانکہ جلسہ کی برکات کو اگر مدنظر رکھا جاے تو تین دن حاضر رہنا ضروری ھے۔ جس حد تک ممکن ھو جلسہ کی تقاریر اور باقی پروگرام پوری توجہ اور خاموشی سے سنین اور وقت کی قدر کرتے ھوے کسی بھی صورت اسے ضایع نہ کریں۔
میزبانوں کو نصایح
ایک ہدایت ان لوگوں کے لیے ھے جو بعض دفعہ عمومان تو یہ نہیں ھوتا لیکن بعض دفعہ بعض مقامی لوگ مہمانوں کو لفٹ دیتے ھیں اور پیسوں کا مطالبہ کرتے ھیں۔ مہمان نوازی کے پیش نظر اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
مہمان بھی اگر کہیں کوتاہی دیکھیں تو نرمی سے توجہ دلا دیں۔ کسی قسم کا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ھے۔ اتنے وسیع انتظامات ھوتے ھیں۔ تھوڑی بہت کمیاں رہ جاتی ھیں۔ وہ برداشت کرنی چاہیں اور صرف نظر کرنا چاہیے۔ اور غصہ کو دبانے کا بھی ایک ثواب ھے۔
کارکنان کو ہدایت
اپنے ساتھی کارکنوں سے بھی عذر اور احترام سے پیش آیں آپس میں محبت سے سارے کام اور ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔
جو میزبان ھیں ان کا یہ فرض ھے کہ مہمان کی مہمان نوازی اسی طرح خوش خلقی سے کرتے رہیں۔ جب تک انتظام کے تحت اس مہمان نوازی کا انتظام ھے۔ یہ نہیں کہ ادھر جلسہ ختم ھوا اور ادھر ڈیوٹی والے کارکن غایب پتہ نہیں کہاں گیے۔ اور انتظامیہ پریشان ھو رہی ھو۔ تو جو بھی ڈیوٹی دیں پوری محنت اور دیانتداری سے دیں۔
اسی طرح کارکنان بھی اگر مہمان کا غصہ دیکھیں تو انتہای نرمی سے معزرت کر کے تکلیف دور کرنے کی کوشش کریں لیکن یاد رکھیں کہ مہمان سے سختی سے بات نہیں کرنی۔
مسجد کے آداب
مسجد مین اور مسجد کے ماحول میں اس کے آداب اور تقدس کا خیال رکھیں۔ جلسہ سالانہ کے دنوں میں جو مارکی جلسہ کے لیے لگای جاتی ھے اسی میں نمازیں ھوں گی۔ اس لیے اس وقت کے لیے اس کو آپ کو مسجد کا ھی درجہ دینا ھو گا اور مکمل طور پر وہاں اس تقدس کا خیال رکھنا ھو گا۔
آداب نماز
جلسہ کے ایام بالخصوص ذکر الہی کرتے اور درود پڑھتے ھوے گزاریں اور التزام کے ساتھ نمازوں کی پابندی کریں اب اتنی دور سے مہمان تشریف لاے ھیں تو اگر نمازیں بھی نہ پڑھیں اور ان کی پابندی نہ کی تو پھر فایدہ کوی نہیں ھو گا۔ اسی طرح انتظامیہ کے لیے لنگر خانہ میں یا ایسی ڈیوٹیاں جہاں سے ہلنا ان کے لیے مشکل ھے وہاں نماز کی ادایگی کا انتظام ھونا چاہیے۔ ان کے افسر ان کی یہ ذمہ داری ھے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں۔
نماز کے دوران بعض اوقات بچے رونے لگ جاتے ھیں جس سے بعض لوگوں کی نماز میں بہرحال توجہ بٹتی ھے، خراب ھوتی ھے۔ جو نماز کا تعلق تھا وہ جاتا رہتا ھے۔ تو اس صورت میں والدین کو چاہیے اگر والد کے پاس بچہ ھے یا والدہ کے پاس بچہ ھے تو وہ اس کو باہر لے جایں۔
اگر چھوٹی عمر کے بچے ھیں تو مایں یا اگر باپوں پاس ھیں تو باپ پہلی صفوں میں بیٹھنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ پیچھے جا کر بیٹھیں تا کہ اگر ضرورت پڑے تو نکلنا بھی آسان ھو۔
موبایل فون
نمازوں کے دوران اپنے موبایل فون بھی بند رکھیں۔ بعضوں کو عادت ھوتی ھے کہ فون لے کر نمازوں پر آ جاتے ھیں اور پھر جب گھنٹیاں بجنا شروع ھوتی ھیں تو نماز سے بالکل توجہ بٹ جاتی ھے۔
آداب گفتگو
فضول گفتگو سے اجتناب کریں۔ باہمی گفتگو میں دھیما پن اور وقار قایم رکھیں۔ تلخ گفتگو سے اجتناب کریں۔
بعض لوگ بلند آواز سے عادتان تو تو میں میں کرکے باتیں کر رھے ھوتے ھیں یا ٹولیوں کی صورت میں بیٹھ کر قہقہے لگا رھے ھوتے ھیں۔ ان تین دنوں میں ان تمام چیزوں سے جس حد تک پرہیز کر سکتے ھیں کرین بلکہ مکمل طور پر پرہیز کرنے کی کوشش کریں۔ ویسے بھی یہ کوی ایسی اچھی عاد ت نہیں۔
نظم و ضبط
تنگ سڑکوں پر چلنے میں احتیاط اور شوروغل سے پرہیز کریں۔ باہر سے آنے والوں کے لیے خاص طور پر یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ھے کہ اس ماحول میں یہ نہ سمجھیں کہ آبادی نہیں ھے۔ تھوڑی بہت آبادی تو ھوتی ھے تو بلا وجہ شوروغل نہیں ھونا چاہیے۔
نظم و ضبط کا خیال رکھیں اور منتظمین جلسہ سے بھرپور تعاون کریں اور ان کی ہر طرح سے اطاعت کریں۔
صفای
جلسہ کے دنوں میں راستوں کی صفای کے علاوہ گراونڈ میں بھی اور جلسہ گاہ میں بھی بچے اور بڑے گند کر دیتے ھیں تو قطع نظر اس کے کہ کس کی ڈیوٹی ھے جو بھی گند دیکھے اس کو اٹھا کر جہاں بھی کوڑا پھینکنے کے لیے ڈسٹ بن یا ڈبے وغیرہ رکھے گیے ھیں ان میں پھینکیں۔ مہمان بھی میزبان بھی دونوں ان چیزوں کا خیال رکھیں۔
صفای کے آداب ھیں۔ ٹیلٹ میں صفای کو ملحوظ رکھیں۔ یاد رکھیں کہ صفای بھی ایمان کا حصہ ھے۔
اس ماحول میں ظاہری صفای کابہت خیال رکھا جاتا ھے۔ بلاوجہ انتظامیہ کو بھی اعتراض کا موقع نہ دیں اور اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیں کہ صفای کو ہر صورت میں آپ نے قایم رکھنا ھے۔
خواتین کو نصایح
خواتین کے لیے ہدایت ھے کہ خواتین گھومنے پھرنے میں احتیاط اور پردہ کی رعایت رکھیں۔ تاہم جو خواتین احمدی مسلمان نہیں اور پردے کی ایسی پابندی نہیں کرتیں ان سے صرف پردے کی درخواست کرنا ھی کافی ھے۔ ہر گز کوی زبردستی کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہونی چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے کسی احمدی کو بھی نقاب کی دقت ھو تو پھر ایسی خواتین میک اپ میں نہیں ھونی چاہیں۔ سادہ رہیں کیونکہ میک اب کرنا بہرحال مناسب نہیں۔ سر ڈھاپنے کی عادت کو اچھی طرح سے رواج دیں۔ ایک ایسا ماحول پیدا ہو۔ خواتین کی طرف سے نظر آنا چاہیے کہ روحانی ماحول میں ہم یہ دن بسر کر رھے ھیں۔ پردہ نہ کرنے کے بہانے نہیں تلاش ہونے چاہیں۔ اگر کوی مجبوری ھے تو بہرحال جس حد تک حجاب ھے اس کو قایم رکھنا چاہیے اور یہ حکم بھی ھے۔
بعض دفعہ خواتین میں یہ دیکھا گیا ھے کہ عورتیں اکٹھی ھویں، باتیں کیں اور بس ختم اور یہ پتہ ہی نہیں ھوتا کہ کیا تقریریں ھویں اور کیا کہا گیا، کس قسم کے تربیتی پروگرام تھے۔
کھانے کے آداب
ان دنوں میں بعض دفعہ کھانے کا بہت ضیاع ھوتا ھے ۔ کہ کھانے کے آداب مین تو یہ ھے کہ جتنا پلیٹ میں ڈالیں اس کو مکمل ختم کریں۔ کوی ضیاع نہیں ھونا چاہیے۔ بلا وجہ حرص میں آ کر زیادہ ڈال لیا یا دیکھا دیکھی ڈال لیا۔ اپنے بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں کہ اس قسم کی کوی حرکت نہیں ھونی چاہیے جس کا دوسروں پر برا اثر پڑ رہا ھو۔ اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ھے کہ کھانا جو ضایع ھو رہا ھوتا ھے اکثر کارکنان کا یہ قصور نہیں ھوتا بلکہ لینے والے کا قصور ھوتا ھے۔
اتنا ہی لیں جتنا آپ ختم کر سکیں لیکن کارکنان کے لیے بہرحال یہ ہدایت ھے کہ اگر کوی مطالبہ کرتا ھے کہ مزید دو اور زیادہ لے لیتا ھے تو اسے نرمی سے سمجھایں۔ سختی سے کسی مہمان کو بھی انکار نہیں کرنا اور نہ یہ کسی کارکن کا حق ھے۔ پیار سے کہہ سکتے ھیں کہ ختم ھو جاے تو دوبارہ آ کر لے لیں۔
کھانا جہاں آپ کھا رھے ھوں ان جگہوں پر بعض لوگ کھانا کھا کر خالی برتنوں کو وہیں رکھ جاتے ھیں اور ڈسٹ بن میں نہیں ڈالتے ۔ اور یہ معمولی سی بات ھے۔ ایک تو کارکنان کا کام بڑھ جاتا ھے۔ اس عرصہ میں وہ کوی اور کام کر سکتے ھیں۔ دوسرے گندگی پھیلتی ھے۔
بازار کے متعلق ہدایات
ایک ضروری ہدایت یہ ھے کہ بازار جلسہ کے دوران بند رہیں گے۔ مہمان بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ بلا وجہ جن لوگوں نے دکانیں بنای ہوی ھیں یا سٹال لگاے ھیں ان کو مجبور نہ کریں کہ اس دوران دکانیں کھولیں یا آپ وہاں بیٹھے رہیں۔
ٹریفک
گاڑیاں پارک کرتے وقت خیال رکھیں کہ وہ لوگوں کے گھروں کے سامنے یا ممنوعہ جگہوں پر پارک نہ ھوں۔
ٹریفک کے قواعد کو ملحوظ رکھیں اور جلسہ گاہ میں شعبہ پارکنگ کے منتظمین سے مکمل تعاون کریں۔
اگر تھکے ھوے ھیں یا بے آرامی ھے کسی بھی صورت میں آرام کیے بغیر سفر شروع نہ کریں۔
حفاظت
حفاظتی نقطہ نگاہ سے نگرانی کرنا ایک بہت اہم چیز ھے۔ اپنے ماحول پر گہری نظر رکھنا ہر ایک کا فرض ھے کہ اگر اجنبی آدمی ھو تو متعلقہ شعبہ کو اس کی اطلاع کر دیں۔ خود کسی سے بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔
اس کا سب سے بہترین طریقہ یہی ھے کہ ہر آدمی زیادہ دور تک نظر تو نہیں رکھ سکتا ۔ مگر اپنے دایں بایں اپنےساتھیوں پر بہر حال نظر رکھیں جن کو آپ جانتے نہ ھوں۔ تو یہی بہت بڑی سیکیورٹی ھے جماعت احمدیہ کی۔
جلسہ گاہ کی حدود میں داخلہ سے قبل متعلقہ حفاظتی عملہ کے سمنے خود ہی چیکنگ کے لیے پیش ھو جایا کریں۔
ہر وقت شناختی کارڈ لگا کر رکھیں۔ اور اگر کوی اس کے بغیر نظر آے تو اس کو بھی نرمی سے توجہ دلا دیں۔
قیمتی اشیاء اور نقدی وغیرہ کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں اور یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ھے انتظامیہ ہر گز اس کی ذمہ داری نہیں لے گی۔
ویزا کے بارے ہدایات
یہاں قیام کے دوران دوسرے ملکی قوانین کی بھی پوری پاسداری کریں۔ پوری پاندی کریں اور بلخصوص ویزا کی میعاد ختم ھونے سے پہلے پہلے ضرور واپس تشریف لے جایں اور جو دوست جلسہ سالانہ کی نیت سے ویزا لے کر یہاں آے ھیں انہیں بہرحال اس کی بہت سختی سے پابندی کرنی ھو گی۔
دعا
سب سے اہم دعا ھے۔ دعاوں پر زور دیں۔ جلسہ پر آتے بھی اور جاتے بھی۔ دعاوں سے سفر شروع کریں اور سفر کے دوران بھی دعایں کرتے رہیں۔
(بحوالہ خطبہ جمعہ، فرمودہ ۱۸ جولای ۲۰۰۳ء، الفضل انٹر نیشنل ۱۲ ستمبر ۲۰۰۳ء)
Hazrat Mirza Masroor Ahmad
Khalifat-ul-Masih (v)
Contacts
- Tel: +44 (0) 20 8687 7813
- Fax: +44 (0) 20 8687 7880
- Email: enquiry@jalsasalana.org.uk
Miscellaneous
© Copyright Jalsa Salana UK. All Rights Reserved
